YouTube video script in Urdu text

 اپنی زندگی کے 55 سال معزوری میں گزارنے والا اسٹیفن ہاکنگ نہ ہی چل پھر سکتا تھا نہ ہی کھا پی سکتا تھا اور حتی کہ اپنی اواز تک بھی نکال نہیں سکتا تھا بلکہ حیرت انگیز سٹور پہ وہ ایک کمپیوٹر کی مدد سے لوگوں سے بات کیا کرتا تھا اپنی زیادہ تر تھیوریز اور پریڈکشنز سچی ثابت کروانے والا سٹیفن ہاکنگ اب اس دنیا میں تو نہیں ہے لیکن اپنے مرنے سے پہلے اس نے ارتھ پر تباہی کی کچھ ایسی بھیانک پریڈکشنز کی تھیں جو اگر سچی ثابت ہو گئی تو اگلے 200 سالوں میں ہماری دنیا کا نام و نشان  بھی نہیں رہے گا زیم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش امدید ناظرین 21 سال کی عمر میں اسٹیفن ہاکنگ کو ایک ایسی بیماری نے گھیر لیا جو زیادہ تر 50 سال سے زیادہ کی ایج میں لوگوں کو ہوتی ہے اور وہ انسان کی جان لے کر ہی چھوڑتی ہے ڈاکٹرز کی طرف سے اسٹیفن پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ اس کے پاس زندہ رہنے کے لیے اب صرف دو سال بچے ہیں وہ جسے زندگی نے صرف دو سال کی مہلت دی تھی اس نے اس بیماری کے ساتھ 55 سال گزار کر ڈاکٹرز کو بالکل غلط ثابت کر دیا اس نے اپنی بیماری کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ وہ اپنی بیماری کو اپنی طاقت بنانا چاہتا تھا بیماری کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے کھانے پینے اور حتی کہ بولنے تک بھی قاصر تھا ایک ٹیوب کی مدد سے وہ کھانا کھاتا تھا اور دوسری ٹیوب کی مدد سے وہ سانس لیتا تھا جبکہ بولنے کے لیے اس کی ویل چیئر پر ہی ایک خاص کمپیوٹر لگایا گیا اور اپنے جبڑے کے ایک چھوٹے مسل کی مدد سے وہ کمپیوٹر پہ ٹائپنگ کیا کرتا تھا جس کو کمپیوٹر اواز میں بدل کر اس کی فیلنگز کو لوگوں تک پہنچاتا تھا اس کے تقریبا سارے ہی باڈی پارٹس کام کرنا چھوڑ چکے تھے لیکن ایک چیز اس کے پاس ایسی تھی جو نارمل انسانوں سے بھی زیادہ سٹرانگ تھی اسٹیفن ہاکنگ کے پاس ایک ایکسٹرا ارڈنری برین تھا جس میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت عام انسانوں سے کئی گنا زیادہ تھی ویل چیئر پہ بیٹھے بیٹھے اس نے اٹھ بکس پبلش کی اور ائنسٹائن کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے سائنسدان کی حیثیت سے اس نے یونیورس کے ایسے رازوں کا پردہ فاش کیا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اسٹیفن ہاکنگ نے دنیا کے سامنے کئی ایسی تھیوریز پیش کی جو واقعی سچی ثابت ہوئیں جس میں بلیک ہول کی ایگزمپل بھی شامل ہے جہاں ان کی تھیوریز نے دنیا بھر کے سائنٹسٹ اور ریسرچرز کو حیران کر رکھا تھا وہی اسٹیفن ہاکنگ کی کئی ایسی پریڈکشنز بھی ہیں جنہوں نے سب کو خوفزدہ کر رکھا ہے ان بھیانک پریڈکشنز میں سٹیون ہاکنگ نے بتایا تھا کہ ہمارا پلینٹ ارتھ اور اس میں رہنے والے انسان کب اور کیسے ختم ہوں گے ائیے جانتے ہیں ان چھ پریڈکشنز کے بارے میں نمبر سکس اسٹیفن ہاکنگ کا ماننا تھا کہ انسان کو سب سے بڑا خطرہ اسپیس سے انے والی کسی افت سے نہیں بلکہ خود انسان سے ہی ہے 2016 میں انہوں نے کہا تھا کہ مختلف وائرس سے بچنے کے لیے جو ویکسینز بنائی جا رہی ہیں ان میں کئی جینٹکلی موڈیفائیڈ بھی ہے یعنی وہ وائرس کے ڈی این اے کو الٹر کر کے بنائی جاتی ہے تاکہ وہ وائرس انسان پر اثر نہ کرے ہاکنگ کا ماننا تھا کہ اس قسم کی ویکسینز وقتی طور پہ تو انسان کے لیے فائدے مند ہوتی ہیں کیونکہ اس وائرس کا افیکٹ انسان پر نہیں ہوتا لیکن لانگ ٹرم میں یہ انسانوں کے ڈی این اے کو چینج کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انہیں ختم بھی کر سکتی ہیں اج کل فارماسسٹ کئی جان لیوا وائرس کو ملا کر ایک سنگل شارٹ ویکسینز بنانے لگے ہیں جس کی جیتی جاتی مثال روٹاٹک ویکسین ہے جو اصل میں نیو بون بیبیز کو روٹا وائرس سے بچانے کے لیے بنائی گئی تھی یہ ویکسین گائے اور انسان کے ڈی این اے کو الٹر کر کے بنائی گئی تھی یہ بچوں کو روٹا وائرس سے تو محفوظ رکھتی ہے لیکن اس کے لانگ ٹرم نقصانات ہیں یا نہیں یہ دو وقت ہی بتائے گا نمبر فائو اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی 55 سالہ بیماری کے دوران یونیورس پر کافی ریسرچ کی اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ارتھ کے علاوہ بھی زندگی موجود ہے اور ایک نہ ایک دن وہ ایلینز ہمارے پلینٹ پر قبضہ کر لیں گے یہاں اپ کو یہ بتاتے چلیں کہ سائنٹیفک تھیوری کے حساب سے یہ یونیورس ایک بگ بینک کے نتیجے میں بنی تھی لیکن ہاکنگ کی تھیوری اس سے تھوڑی الگ تھی ان کا ماننا تھا کہ صرف ایک بگ بینگ نہیں ہوا تھا بلکہ کئی اور بگ بینگز بھی ہوئے تھے اور ہر ایک کے نتیجے میں الگ الگ یونیورس بنی تھی یعنی اسان الفاظ میں بات کی جائے تو ہاکنگ پیرل یونیورس پہ یقین رکھتے تھے بے شک ابھی تک کسی اور یونیورس کے ہونے کا کوئی ثبوت تو نہیں ہے لیکن ہاکنگ کا مضبوط یقین تھا کہ کسی دن ارتھ پر ایلینز ہم پر اسٹڈی کرنے ائیں گے اور اہستہ اہستہ ارتھ پر قبضہ کر لیں گے نمبر فور 2018 میں اپنی موت سے صرف دو ہفتے اس موت ایگزٹ فرام اٹرنل انفلیشن جس میں ہاکنگ نے بتایا تھا کہ ہماری یونیورس ایک بگ بینک کے نتیجے میں تو بنی تھی لیکن وہ ابھی تک ایکسپینڈ ہوتی جا رہی ہے اور ایک وقت ایسا بھی ائے گا جب ہماری یونیورس کو مزید ایکسپینڈ کرنے کے لیے انرجی کم پڑ جائے گی اس وقت سارے اسٹارز اہستہ اہستہ بجھ جائیں گے اور ہر طرف صرف اندھیرا ہی اندھیرا پھیل جائے گا ان کا ماننا تھا کہ یہی وہ وقت ہوگا جب ہماری پوری کی پوری یونیورسٹ اپنے دی اینڈ پر پہنچ جائیں گی ہاکنگ کا ماننا تھا کہ اگر انسانوں کو اپنی نسلیں ختم نہیں کرنی تو ان کو جلد از جلد پیرل یونیورس تلاش کر کے وہاں کسی پلینٹ میں جا کر بسنا چاہیے نمبر تھری بے شک اسٹیفن ہاکنگ خود ایک روبوٹک ویل چیئر کے سہارے پہ تھا لیکن وہ ان روبوٹس کا سب سے بڑا مخالف بھی تھا روبوٹس ویسے تو انسان کے کام کو اسان بنانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں لیکن ان میں دن بدن ایڈوانسمنٹ اتی جا رہی ہے اج کل تو کئی ایسے روبوٹس بھی بنائے جانے لگے ہیں جو ارٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ایسے ایسے کام کر سکتے ہیں جو انسان سوچ بھی نہیں سکتا اسٹیون ہاکنگ نے پریڈکٹ کیا تھا کہ ایک دن روبوٹس اتنے پاور فل ہو جائیں گے کہ وہ خود دوسرے رپورٹس کو بھی بنا سکیں گے انسانوں کے اندر جو انٹیلیجنس ہوتی ہے وہ لمٹڈ ہوتی ہے جیسا کہ انسان ایک ہی وقت میں صرف ایک طرف دیکھ سکتا ہے یا پھر ایک وقت میں صرف ایک ہی کام کر سکتا ہے لیکن روبوٹس کی انٹیلیجنس کسی بھی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے جن سے انسان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اس قسم کے روبوٹس کی جیتی جاگتی مثال اسرائیل ائرن ڈوم میں پائی جاتی ہے جو کہ ایک ہائلی انٹیلیجنٹ ایئر ڈیفنس سسٹم ہے یہ ائرن ڈوم ایک ہی وقت میں درجنوں میزائلز کو ہوا میں ہی نشانہ بنا کر پھاڑ سکتا ہے نہ صرف اتنا بلکہ اس کے اندر کا رپورٹ صرف ایک ملی سیکنڈ کے ٹائم میں یہ پتہ لگا لیتا ہے کہ کون سا میزائل پاپولیٹڈ ایریا میں گرے گا تاکہ اس کو پہلے نشانہ بنایا جائے اسٹیفن ہاکنگ نے پریڈکشن دی تھی کہ ایک دن روبوٹس اتنے زیادہ پاور فل ہو جائیں گے کہ وہ انسان کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کریں گے اور پھر کامیاب بھی ہو جائیں گے نمبر ٹو یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں غصہ اور لڑائی جھگڑا موجود ہے جس کے کم ہونے کا کوئی چانس نظر نہیں اتا اس لڑائی جھگڑے کی ایک ریسنٹ ایگزمپل رشیا اور یوکرین کی وار میں دیکھی جا سکتی ہے اپنے لڑائی جھگڑے کو سپورٹ کرنے کے لیے انسان نے ایسے جان لیوا ہتھیار بھی بنائے ہیں جو ایک ہی پل میں پوری دنیا سے انسانیت کو ختم کر سکتے ہیں ان کو ویپنز اف ماس ڈسٹرکشن بھی کہا جاتا ہے ورلڈ وار ٹو میں جاپان کے شہر ہیروشمہ اور ناکا ساقی پہ امریکہ نے دو الگ الگ اٹامک بمز گرائے جس کے نتیجے میں وہاں اج تک اس کے سائیڈ افیکٹس پائے جاتے ہیں اسٹیفن ہاکنگ نے پریڈکٹ کیا تھا کہ اگر انسانوں نے ایک ساتھ رہنا نہ سکھا تو ایک دن یہ اپس میں ہی لڑ پڑیں گے اور اپنے پاؤں پہ ہی کلہاڑی مار کر نیوکلیئر وار اسٹارٹ کر دیں گے جو اس دنیا کا اخری دن ہوگا اور اب نمبر ون اسٹیفن ہاکنگ کی پریڈکشنز میں سے سب سے خوفناک ہے گلوبل وارمنگ ہاکنگ کا یقین تھا کہ اگر یہ دنیا باقی تمام چیزوں سے بچ بھی گئی تو انے والے 600 سالوں میں یہاں پر انسانوں کا رہنا ناممکن ہو جائے گا اس وقت سارے جنگلات جل چکے ہوں گے سمندر کا پانی ایوپریٹ ہو چکا ہوگا اور انسان کا نام و نشان بھی نہیں بچے گا اس کی سب سے بڑی وجہ بڑھتی ہوئی ابادی اور ناقابل یقین حد تک فوسل فیولز کا استعمال ہوگا ہاکنگ کا کہنا تھا کہ اگلے 600 سالوں میں ارتھ کی ویسی ہی کنڈیشن ہوگی جیسی ابھی وینس پہ ہے ارتھ کا ایوریج ٹمپریچر 250 ڈگری سیلسیس تک بڑھ جائے گا اسمان سے پانی کی جگہ سلفیورک ایسڈ برسا کرے گا اور اگ برساتی گرم ہواؤں کی رفتار 360 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی یہ گرمائش اتنی ہی ہے جتنی کھانا پکانے کے لیے ایک اون میں سیٹ کی جاتی ہے ناظرین جیسے اسٹیفن ہاکنگ نے ڈاکٹرز کی دی گئی صرف دو سالوں کی مہلت کو بچپن سالوں میں بدل لیا ایسے ہی ہم سب بھی اپنے ارتھ کی لائف صرف ایک ایک درخت لگا کر بڑھا سکتے ہیں امید ہے زم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی اپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے اپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں

Comments